ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / علیحدگی پسندوں کے اعلان کے پیش نظر سری نگر کے کچھ حصوں میں پھر کرفیو 

علیحدگی پسندوں کے اعلان کے پیش نظر سری نگر کے کچھ حصوں میں پھر کرفیو 

Sat, 29 Oct 2016 12:21:43    S.O. News Service

سری نگر، 28؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )حکام نے جمعہ کی نماز سے پہلے یہاں تاریخی جامع مسجد تک مارچ نکالنے کے علیحدگی پسندوں کے اعلان کے پیش نظر سری نگر کے کچھ حصوں میں آج کرفیو لگا دیاہے ۔ایک پولیس افسر نے کہا کہ پرانے شہر کے نوہٹا، کھانیار،صفا کدل، ریناواڑی اور مہاراج گنج میں اور شہر کے مضافات کے بٹمالو میں کرفیو لگایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شہر کے نوہٹا علاقے میں جامع مسجد تک مارچ نکالنے کے علیحدگی پسندوں کے اعلان کے پیش نظر یہ پابندیاں لگائی گئی ہیں ۔افسر نے کہا کہ ان مقامات کے علاوہ کشمیر کے کسی اور علاقے میں لوگوں کی آمدورفت پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے، لیکن وادی میں سی آر پی سی کی دفعہ 144کے تحت لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔علیحدگی پسند 8 ؍جولائی کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں حزب مجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔شہر کے کچھ حصوں میں کرفیو لگنے سے کشمیری عوام اور گاڑیوں کی نقل و حرکت میں آج کمی دیکھی گئی۔سول لائنس اور شہر کے بیرونی علاقوں میں سڑکوں پر ٹریفک کم رہا۔اس درمیان علیحدگی پسندوں کی جانب سے طلب کردہ ہڑتال کی وجہ سے 112ویں دن بھی وادی کے دیگر حصوں میں معمولات زندگی ٹھپ ہے۔دکانیں، پٹرول پمپ، کاروباری اور تعلیمی ادارے بند رہے۔قانون وانتظام کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی قدم اٹھاتے ہوئے حساس مقامات اور اہم شاہراہوں کے پاس بڑی تعداد میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے ۔وادی میں جاری بدامنی میں اب تک 85افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ہزاروں دیگر افراد زخمی ہیں۔جھڑپوں میں 5000سیکورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں ۔پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت 300سے زیادہ لوگوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا ہیں۔


Share: